-->
logo
سرِ ورق
اگلا صفحہ
پچھلا صفحہ
فہرست
flower
flower
flower
flower
divider

غزل

حد سے توقعات زیادہ کیے ُہوئے
بیٹھے ہیں دل میں ایک ارادہ کیے ُہوئے

اس دشت بے وفائی میں جائیں کہاں کہ ہم
ہیں اپنے آپ سے کوئی وعدہ کیے ُہوئے

دیکھو تو کتنے چین سے کس درجہ مطمئن!
بیٹھے ہیں ارض پاک کو آدھا کیے ہوئے

ق
پاؤں سے خواب باندھ کے شام وصال کے
اک دشت انتظار کو جادہ کیے ہوئے

آنکھوں میں لے کے جلتے ہوئے موسموں کی راکھ!
گرد سفر کو تن کا لبادہ کیے ہوئے

دیکھو تو کون لوگ ہیں!آئے کہاں سے ہیں !
اور اب ہیں کس سفر کا ارادہ کیے ہوئے

اس سادہ رُوکے بزم میں آتے ہی بجھ گئے
جتنے تھے اہتمام زیادہ کئے ہوئے

اُٹھے ہیں اُس کی بزم سے امجد ہزار بار
ہم ترک آرزو کا ارادہ کیے ہوئے

divider
copyright©AmjadIslamAmjad.net2008
design_sig