logo
سرِ ورق
اگلا صفحہ
پچھلا صفحہ
فہرست
divider
divider

نئے پرانے .......ایک مطالعہ امجد اسلام امجد
زاہد حسن

ہر عہد.... اور ہر عصر کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں‘ اور ہر عہد اور ہر عصر اپنے لئے بعض خاص سماجی اقدار‘ ثقافتی رویے اور ادبی جمالیات اسارتا ہے- اردو غزل قدیم اصناف ادب میں شمار کی جاتی ہے- دکن سے آغازکرنے والی اس صنف سخن نے ایک طویل عہد اور وسیع تر خطہ ہائے زمین پر اپنے اثرات مرتب کئے ہیں اور اپنے ذریعے زمان و مکان کی داخلی اور خارجی واردات کو کمال فنکاری کے ساتھ نباہنے میں معاونت کی ہے گو کہ کسی چیز کا معیار قائم کرنے میں زیادہ ہاتھ فنکار کا ہوتا ہے لیکن وہ صنف فارم اور لہجہ بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرتا ہے-معاصر عہد کی ادبی جمالیات میں غزل ایک اہم صنف سخن کے طورپر تسلیم کی جاتی ہے-
”نئے پرانے“ میں کلاسیکی شعراءکے دو اوین سے بڑی عرق ریزی کے ساتھ انتخاب کیا گیا ہے جس کا عرصہ انتخاب چوبیس برس پر محیط ہے- امجد اسلام امجد نے اس انتخاب کو دو حصوں میں بانٹا ہے‘ پہلے حصے میں انہوں نے اردو شاعری کی روایت کے بہت بڑے ستونوں کو رکھا ہے اور ان پر بصیرت افروز تنقید لکھی ہے- جس میں ہر عہد اور اس عہد کے سماجی‘ سیاسی اور تہذیبی رویوں کو اجاگر کیا ہے جبکہ دوسرے حصے میں نو معروف شعراءکا انتخاب شامل ہے جو ایک عام سطح کے انتخاب سے بہت بہتر ہے- اس حصے میں ولی دکنی‘ قائم چاند پوری‘ انشاء‘ جرات‘ مومن‘ ذوق‘ شیفتہ‘ حالی اور داغ شامل ہیں جبکہ پہلے حصے میں میر تقی میر‘ خواجہ میر درد‘ سودا‘ نظیر اکبر آبادی‘ مصحفی‘ آتش‘ غالب اور اقبال شامل ہیں اگرچہ ان شعراءکا اتنا کڑا انتخاب ایک مشکل مرحلہ تھا لیکن امجد اسلام امجد نے اس کو بخیر و خوبی طے کیا ہے- اس انتخاب کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے امجد اسلام امجد کہتے ہیں-
یہ انتخاب اساتذہ کے کلام سے ایسے اشعار کا انتخاب بنتا ہے جو
۱- اپنے عہد کے اعتبار سے نئے اور تازہ تھے-
۲- جن کی تازگی عہد بہ عہد سفر کرتی ہوئی آج بھی قائم ہے-
۳- ایسے اشعار جو نئے تو ضرور تھے مگر بوجوہ شعری روایت کا حصہ نہ بن سکے-
۴- اساتذہ کی شاعری میں عصری ترتیب سے لسانی تجربات کا جائزہ-
اس سلسلے میں انہوں نے لسانی تشکیلات کا جو ایک جائزاتی پس منظر تخلیق کیا ہے وہ خاصے کی چیز ہے یوں سبھی لسانی تجربات اور ان کی تشکیلات ایک ایسا مسئلہ ہے جو سارے زمانوں میں جاری و ساری رہتا ہے-ا س لئے کسی عہد میں‘ کسی شہر میں کس نوع کی شاعری تخلیق کی جا رہی تھی اور بعدازاں اس پر کس طرح کے لسانی اثرات مرتب ہوئے‘ اس سلسلے میں ہجرت‘ دیگر اقوام کی آمد اور بہت سے علاقوں سے آ کر ایک شہر میں آباد ہونے والے لوگوں کے ملاپ سے نئی لفظیات کا وجود میں آنا اور پھر ان کا شعری اجزائے ترکیبی میں کھپنا‘ ایک ایسا موضوع ہے جس پر انہوں نے سیر حاصل بحث کی ہے-اس کتاب میں شامل انتخاب کا ہر شعر اس قابل ہے کہ اس کو جگہ دی جائے لیکن فی الحال صرف تنقیدی حوالے ہی دیکھئے.... میر تقی میر کے بارے میں لکھتے ہیں:
”میر کو نقصان اپنے نقادوں سے نہیں بلکہ مداحین اور شارحین سے پہنچا ہے‘ یہ وہ لوگ ہیں جو ان کے یہاں بہتّر نشتر ڈھونڈتے ہیںا ور انتخاب کرتے وقت چن چن کر اچھے اشعار خارج کر دیتے ہیں- میر ان کے نزدیک ایک انتہائی قنوطی‘ درد مند اور محروم شخص ہے جس کی ساری عمر روتے رلاتے گزری ہے اور جس کا دیوان‘ دیوان کم اور عزاخانہ زیادہ ہے-“
امجد اسلام امجد نے معاصر تنقید اور نقادوں کی کج فہمی اور اندرونی خباثت کے حوالے سے لاتعداد انکشافات کئے ہیں- انہوں نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ میر کو سمجھنے میں ”آب حیات“ کی تلاش میں سرگرداں محمد حسین آزاد اور عبدالخالق نے کہاں ٹھوکر کھائی ہے.... یوں انہوں نے میر شناسی کے لئے ایک نیا ز اویہ نظر فراہم کیا ہے جو دیگر زاویوں کی نسبت کھرا اور ٹھوس ہے کہ اس میں میر کے تجربات کا دل کھول کر اعتراف کیا گیا ہے یعنی ا ن کی یہ بات صحیح ہے کہ
”جس قدر کوئی شاعر اپنے حواس خمسہ کو زیادہ استعمال کرے گا اس قدر وہ زمین سے‘ معاشرے سے اور روح عصر سے زیادہ ہم آہنگ ہوگا- تخیل کی بلند پروازی اور اس کی شعبدہ بازیوں کی نسبت دیکھی‘ سنی‘ سونگھی‘ چکھی اور چھوئی جاسکنے والی اشیاءانسانوں سے زیادہ قریب ہوتی ہیں....“
میر درد ایک صوفی شاعر کے طور پر معروف ہیں لیکن امجد اسلام امجد نے ہمیں درد کو ایک ایسے شاعر کے طور پر متعارف کروایا ہے جو اپنے عہد میں دلی کے اجڑنے پر نگاہ رکھتا ہے اور اس ردعمل میں ا س کی شاعری میں سماجی اور سیاسی سبوتاژ اس کی شاعری کا حصہ بن رہی ہے ”وہ ایک صوفی شاعر ہے لیکن تاریک الدنیا نہیں- اس کی شاعری اپنے سماج سے جڑی ہوئی ہے“ گو درد نے بہت کم لکھا ہے لیکن جو لکھا ہے- خوب لکھا ہے میر درد کے انتخاب کے آغاز میں وہ لکھتے ہیں:
”اردو کے صوفی شاعر ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں‘ اس بحث سے قطع نظر کہ اردو شہروں میں پروان چڑھی اور پنجابی‘ سندھی اور دیگر زبانیں دیہاتوں میں اوراس لئے ان میں صوفیانہ شاعری کے اپنے اپنے انداز پیداہوگئے ہیں-یہ امر واقع ہے کہ بابا فرید‘ شاہ حسین‘ بلھے شاہ‘ سلطان باہو‘ خواجہ غلام فرید‘ شاہ عبداللطیف بھٹائی‘ رحمن بابا‘ سچل سرمست اور میاں محمد بخش جیسے نامور شاعروں کے مقابلے میں اردو ادب کے پاس لے دے کے ایک بڑا نام ہے اور وہ ہے خواجہ میر درد- یوں تو مظہر جان جاناں سے لے کر اصغر گونڈوی تک بہت سے شعراءاس میدان میں طبع آزمائی کرتے رہے ہیں لیکن اصلی اور بڑا صوفی درد ہی ٹھہرتا ہے-“
 

divider
divider
copyright©AmjadIslamAmjad.net2008
design_sig