


امجد اسلام امجد
شعراء کی نظر میں
امجد اسلام امجد کے لئے سالگرہ کا تحفہ
غلام محمد قاصر
چرخِ تمثیل پہ مہتابِ درخشاں ہے وہ نام
جس کے کردار محبت کی زباں بولتے ہیں
جنبش چشم سے اسرارِ نہاں کھولتے ہیں
اس کی پوروں میں کہیں نصب ہے آئینہ عصر
عکس چلتے ہیں مگر خود وہ پس پردہ ہے
محرم دوش ہے اور منتظر فردا ہے
زعفراں زار بناتا ہے ہر اک محفل کو
اس کے رستے میں بہاروں کی گلی آتی ہے
مسکراتا ہے تو پھولوں کو ہنسی آتی ہے
اس کے ماتھے کی لکیروں میں زمانوں کے رموز
شاعری نے جہاں کاشانہ بنا رکھا ہے
کتنے فرزانوں کو دیوانہ بنا رکھا ہے
شوکتِ جاہ و حشم سطوتِ اورنگِ جمال
وقت ہر چیز کو ٹھکرا کے گزر جاتا ہے
فکر کے سائے میں کچھ دیر ٹھہر جاتا ہے
گلشنِ میر و ولی‘ غالب و اقبال و ندیم
جس میں افکار دلاویز کی ہریالی ہے
ایک کرسی وہاں امجد کے لئے خالی ہے
امجد اسلام امجد کے اعزاز میں عبدالحمید ابو فاروق کے ہاں مشاعرے میں پیش کی گئی-
(بتاریخ ۱۹-۲۱-۰۳)
~~~~~~~~~~
شہر در شہر
(امجد اسلام امجد کا سفر نامہ)
شاعری کے طفیل امجد نے
کتنے ملکوں کی سیر کر لی ہے
اور چھپوا کے یہ سفر نامہ
جیب قاری کی بھی کتر لی ہے
کینیڈا کا ہے نقش کاغذ پر
یا ہے امجد کی شوخیِ تحریر
سیٹلائٹ کا کیمرہ جیسے
کھینچتا ہے زمین کی تصویر
ہم سفر تھے جو عالی و پروین
خوب سردی میں جا کر اکڑے ہیں
ایسے دوروں سے آئندہ کے لئے
ان بچاروں نے کان پکڑے ہیں
گوریوں کا بھی ذکر ہے اس میں
اور سکھوں کا بھی فسانہ ہے
گویا امجد کا یہ سفر نامہ
”چھیڑ خانہ“ ہی ”چھیڑخانہ“ ہے
سرفراز شاہد
~~~~~~~~~~

