logo
سرِ ورق
اگلا صفحہ
پچھلا صفحہ
فہرست
 
divider
divider

امجد اسلام امجد
احمد ندیم قاسمی

امجد کی اس صحت مند‘ مثبت‘ رجائی اور پراعتماد شاعری کو چاہے مقصد زدگی کی گالی دیجئے‘ چاہے اس پر علیل ذہنوں کی جراحی کی پھبتی کسیے‘ حق یہ ہے کہ بڑی شاعری کا ناک نقشہ ایسا ہی ہوتا ہے-
علامہ اقبال نے فرمایا تھا:۔

آدمیت‘ احترام آدمی
باخبر شو از مقام آدمی

شعر و ادب میں اس آدمیت اور انسانیت کے خلاف آج کل بڑے زور کی جنگ ہو رہی ہے- پچھلے دنوں یہاں ہندوستان کے ایک دانشور تشریف لائے تھے- ہمارے ایک روزنامے میں ان کا انٹرویو شائع ہوا- اس میں انہوں نے انسانیت دوستی کو یوں چٹخارے لے لے کر برا بھلا کہا جیسے وہ شیطنت کے خلاف بول رہے ہیں- خود ہمارے ہاں ایسے عناصر موجود ہیں جو انسانیت اور آدمیت کی باقاعدہ تضحیک کرتے ہیں.....مگر اس ماحول میں بھی امجد انسانیت دوستی کا وہ علم بلندکیے ہوئے ہے جس کا سایہ عالم انسانیت پر سے ہٹے تو انسان ایک دوسرے کو چیر پھاڑ کر کھا جائیں- انسان کو بہت حقیرمخلوق اور محض ایک جرثومہ قرار دینے والے اہل فن کی سب سے بڑی
دلیل یہ ہے کہ اتنی ناپیدا کراں کائنات میں ہمارا کرئہ زمین ایک ایسے ننھے سے ذرے کی حیثیت رکھتا ہے جسے کائناتی خورد بین سے بھی بمشکل دیکھا جا سکے- چنانچہ اس حقیر زمین کی مخلوق....انسان تو حقیر ترین چیز ثابت ہوتاہے- اس طرح کی منطق بازی کرنے والے دراصل خوف زدہ لوگ ہوتے ہیں- سہمے ہوئے‘ ٹوٹے پھوٹے‘ بکھرے بکھرے لوگ.... ان کے مقابلے میں امجد کو دیکھئے کہ اسے بے کراں کائنات میں یہی ننھا منا سا انسان یوں نظر آتا ہے کہ :۔

اس جہان ِآب و گل سے روشنی کی لہر بن کر پھوٹتا ہے
ٹوٹتا ہے
خالق کون و مکاں
آسماں کے تخت سے نیچے اتر کر
اپنے آدم کی جبیں کو چومتا ہے!

یہ ہے ایک بڑے شاعر امجد اسلام امجد کے فنی پینوراما کی محض ایک جہت ....یہ شاعر جو بے روئے آنسوؤں کا جالا دیکھنے کی قوت رکھتا ہے‘ درختوں پر حرف لکھنے والی ہوا کے رنگوں کو چن سکتا ہے اور جس کو کنج بدن میں بھٹکنے والے ہاتھ تتلیاں دکھائی دیتے ہیں- وہ شاعر جو روح کی واردات کو کائنات سے یوں مربوط کرتا ہے:۔

تمام رنگ اڑے جا رہے تھے اُس کی طرف
عجب طرح کی کشش آفتابِ شام میں تھی

وہ شاعر جو اپنی منی سی بچی پر نظم لکھتا ہے تو اردو نظم کا ایک شاہکار وجود میں آ جاتا ہے اور جو اس نظم میں بالواسطہ طور پر درس دیتا ہے کہ جو قوم بچے کا احترام نہیں کر سکتی‘ اسے خدا کا احترام کرنے کا دعویٰ بھی نہیں جچتا‘ وہی شاعر اپنا منشور یوں پیش کرتا ہے:۔

میں ایسے لفظ لکھوں گا جو سب کے دل میں ہیں
فقط وہ بات کروں گا جو سب سمجھتے ہوں
اور ایسے رنگ چنوں گا جو میری گِل میں ہیں

divider
divider
copyright©AmjadIslamAmjad.net2008
design_sig