


امجد بھائی
پروین شاکر
پیارے بے مثل مزاح نگار شفیق الرحمن کا قول فیصل ہے
”بلبل پروں سمیت محض چند انچ لمبی ہوتی ہے‘ یعنی اگر پَر نکال دیئے جائیں تو کچھ
زیادہ بلبل نہیں بچتی- “امجد اسلام امجد میں سے اگر لطیفے نکال دیئے جائیں تو کچھ
زیادہ امجد باقی نہیں بچتا‘ لیکن جو بھی بچتا ہے وہ ایسا ہے کہ اسے بچا بچا کے رکھا
جائے- یہ خوشگوار رائے ان چند ہفتوں کی روشنی میں قائم نہیں کی گئی جسے امجد نے
اپنی ڈرامائی جبلت سے مجبور ۷۴۳ صفحات تک پھیلا دیا ہے بلکہ اس کے پیچھے بارہ برس
کی شناسائی کی دھوپ پھیلی ہے- آج اس بات کے اعتراف میں کوئی ہرج نہیں کہ اس طویل
سفر میں الاسکا کی سرد اور جمیل الدین عالی کی گرم مزاجی کے علاوہ جس چیز نے مجھے
دہشت میں رکھا تھا‘ وہ امجد کا خلوص تھا‘ جس کے سبب دنیا میں ا چھے لوگوں کے ہونے کا
یقین ابھی تک میرے دل میں تھا-- اور عازم سفر ہونے پر اپنی بارہ برس کی کمائی کو داﺅ
پر لگا رہی تھی- یہاں تو اسلام آباد سے لاہور تک کے سفر میں لوگوں کے چہروں پر اتنی
گرد جم جاتی ہے کہ پیشانی نظر آتی ہے نہ رخسار نہ ہونٹ‘ اور یہ تو لاہور سے امریکہ
تک کا سفر تھا جس کے درمیان میں کراچی بھی آتا ہے‘ اور جس کے بارے میں امجد نے اتنے
لطیفے گھڑ رکھے ہیں کہ اہل کراچی اگر ان کا دسواں حصہ بھی سن پائیں تو امجد کے
ڈرامے دیکھنا بند کر دیں- یہ بات عطا شاد نے مجھے اس وقت بتائی تھی جب وہ ایک صوبے
کا نیا نیا سیکرٹری انفرمیشن ہوا تھا- مروجہ صوبائی عصبیت اور بیورو کریٹک انڈر
سٹیٹمنٹ
کو ذہن میں ر کھتے ہوئے ذہین سامعین لطیفوں کی تعداد اور نوعیت کا خود
اندازہ کرسکتے ہیں-
مجھے خوشی ہے کہ ہم نے دو ڈھائی ماہ ایک ساتھ سفر کیا لیکن کہیں بھی غبار ہمارے
چہروں پر آیا نہ دلوں پر-
شہر در شہر آپ میں سے بہت سوں نے پڑھ رکھی ہوگی جنہوں نے نہیں پڑھی امجد انہیں تحفتاً
یہ کتاب دے کر مجبور کر دیں گے- حقیقت عام طور پر غیر دلچسپ ہوتی ہے- اس ساری کتاب
میں کوئی بات افسانوی نہیں لیکن حیرت ہے کہ پھر بھی دلچسپ ہے- یہ اور بات ہے کہ بہت
سے ایسے واقعات ہیں جو خوف فساد خلق کی وجہ سے رقم نہیں ہوئے- اور فاضل مصنف اس
سلسلے میں راقم الحروف کا منہ بند رکھنے کے لئے اکثر اسے فون کرکے اس کی تازہ غزلوں
پر داد دیتا ہے- وہ اسلام آباد آ کر اس سے ملے بغیر جانے کا رسک بھی نہیں لیتا-
سرکاری دستاویزات غالباً تیس برس کے بعد عوامی ملکیت ہو جاتی ہیں- امجد کی زلف کشی
اور شکم پروری کے پروگرام کودیکھتے ہوئے یہ پیشن گوئی کی جاسکتی ہے کہ یہ ان لکھا
معاہدہ بہت جلد‘ خود اس کی درخواست پر توڑ دیا جائے گا- آخر حسینان شہر پر"ہیو بین" کا بھی کوئی رعب داب ہونا چاہئے-
"ہیو بین"
ہر بار یاد آیا کہ موسم‘ کھانے اور محاسن شعری پر جب کبھی عالی صاحب سے -ہم نے اختلاف رائے کی جراءت کی- عالی صاحب یہ کہہ کر ہمیں بالکل نہتا کر دیتے تھے
کہ ہاں بھئی ہم تو "ہیو بین" ہیں‘ حالانکہ ٹورنٹو اور سیاسی کے مشاعروں میں ہم نے
بہت سے ان لوگوں کو عالی صاحب کے ہاتھوں آؤٹ بلکہ ناٹ آؤٹ ہوتے دیکھا ہے! عالی صاحب
اپنے سامعین کو اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں اور بعض اوقات چلتے چلتے علاقہ غیر میں
نکل جاتے ہیں ا ور پھر وہاں سے مقامی رسم و رواج کے مطابق ہی ان کی رہائی ہوتی ہے! (یہ
ملکہ بھی ہم نے عالی صاحب کے یہاں ہی دیکھا ہے کہ ان کے اشعار پر ہی نہیں‘ فقروں پر
بھی مکرر ارشاد کی صدا بلند ہوتی ہے!)
امجد نے ایسے بہت سے لمحوں کو ایک ڈرامہ نگار کی آنکھ سے دیکھا- روشنی کسی تعارف کی
محتاج نہیں مگر امجد نے اس کی رونمائی پھر بھی ضروری سمجھی- حالانکہ اس کے قاری نے
بڑے عرصے سے اس کے ساتھ پیکچ ڈیل کی ہوئی ہے- وہ بڑا اچھا شاعر ہے‘ بے حد طناز
ڈرامہ نگار ہے- ہندوستان اور چین میں بیک وقت مقبول ہے‘ ابھی پرسوں کوئی دلی میں
مجھ سے کہہ رہا تھا کہ وہاں امجد کے ڈرامے اتنے مقبول ہیں کہ جب اس کی کوئی سیریل چل
رہی ہوتی ہے تو اس وقت امرتسر کے بازاروں میں سناٹا ہو جاتا ہے اور دلی سے بطور خاص
لوگ بذریعہ ٹرین ایک دن کے لئے امرتسر جاتے ہیں- امرتسر کی غالب آبادی کے پیش نظر
وہاں کے بازاروں کا سناٹا تو سمجھ میں آتا ہے-- یہ اہل دلی کو کیا ہوا؟
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اتنے ایسٹیبلشڈ ادیب کو اس تقریب رونمائی کی کیا ضرورت آن
پڑی-- اور خاص طور پر جب ہمارے ملک میں واقعات کی زمانی و مکانی ترتیب کچھ الٹ پلٹ
گئی ہے- اب پارلیمنٹ میں مشاعرے ہوتے ہیں- شاعروں میں سیاسی امور نمٹائے جاتے ہیں‘
اور ادبی تقریبات میں سنجیدہ کتابوں پر مزاحیہ گفتگو ہوتی ہے‘ اور اکثر مصنف کی اپنی
درخواست پر! خیر اس کتاب پر تو بات ہی اس رنگ میں ہوسکتی ہے!
یہ گفتگو اس ہال کے بجائے چائے خانوں‘ طاقوں اور حجروں میں ہوتی تو زیادہ اچھا لگتا---
کتاب کی اصل اسیسمنٹ اس وقت ہوتی ہے جب قاری آزاد ہوتا ہے-- یوں بھی ادب میں
آپریشن چھانگا مانگا کی گنجائش ذرا کم ہی ہے!
شہر در شہر کی تقریب میں پڑھی گئی‘ اسلام آباد
1989

