logo
سرِ ورق
اگلا صفحہ
پچھلا صفحہ
فہرست
divider
divider

امجد اسلام امجد
مشاہیر کی نظر میں

شہزاد احمد
”کالے لوگوں کی روشن نظمیں“ نیگرو شاعری ہے- دھتکارے ہوئے لوگ زندگی کے بارے میں کیا محسوس کرتے ہیں‘ یہ اس کا اظہار ہے- یہ امجد اسلام امجد کی سب سے غیر معروف کتاب ہے- مگر اپنے طور پر بہت اہم- ہمارے لئے اس لحاظ سے کہ ہم اس میں تیسری دنیا کے دکھ کی کئی پرتیں دیکھ سکتے ہیں اور امجد اسلام امجد کے لیے اس لحاظ سے کہ اسے اپنے آپ سے الگ ہو کر سوچنے کا موقع ملا ہے- شاعری کرنے کے لیے شاید سب سے زیادہ ضروری عمل یہ ہے کہ انسان اپنے زاویہ نظر کو تبدیل کرے- اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو اس کے سامنے ہمیشہ ہی تصویر کا صرف ایک رخ رہے گا اور اس کی شاعری بھی یک رخی ہو جائے گی- چنانچہ شاعری میں مرکز گریزیت ہمیشہ گہرائی پیدا کرتی ہے- اس کی وجہ سے شخصیت کا ارتقاءمحض افقی سطح پر نہیں ہوتا- عمودی سطح پر بھی ہوتا ہے- زمانی حوالے سے دیکھا جائے توامجد نے اپنے ہم عصر ادب کے وہ حوالے تلاش کئے ہیں جو لمحہ موجود میں تو ہیں پر کسی اور مقام اور گرد وپیش میں اپنا وجود رکھتے ہیں-
محمد منشا یاد
امجد اسلام امجد کی دوسری حیثیت بطور ڈراما نگار کے ہے- اس میدان میں شہرت‘ مقبولیت اور کامیابی میں ابھی تک اس کا کوئی ثانی پیدا نہیں ہوا- اس کے ٹی وی سیریل ”وارث“ نے نہ صرف مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے بلکہ اسے ٹی و ی ڈرامے کی تاریخ میں ایک بڑے موڑ کی حیثیت حاصل ہے- ”دہلیز“ فنی اور تیکنیکی طور پر ”وارث“ سے بھی ایک قدم آگے کا سیریل ہے- اس سیریل کے بعد ”سمندر“ نے بھی کامیابی حاصل کی- اس کے علاوہ اس نے بہت اہم اور خوبصورت کھیل ٹی وی کو دیئے ہیں اور بطور ڈراما نگار اپنا لوہا منوایا ہے- اس نے ٹی وی ڈراموں کو ادبی چاشنی دی اور اس کا وقار خواص میں بھی بحال کیا- حال ہی میں اس کا سلسلہ وار کھیل ”رات“ پیش ہوتا رہا جو اپنے موضوع کے اعتبار سے بالکل نیا‘ اچھوتا‘ سنجیدہ اور منفرد کھیل تھا اور جس میں معروضی حالات کی نہایت سچی اور جرات مندانہ عکاسی کی گئی تھی-

ڈاکٹر اے بی اشرف
امجد احساسِ زیاں رکھنے والا شاعر ہے- وطن پر جو قیامتیں ٹوٹیں‘ جو سانحات گزرے‘ وہ سب اس کی نگاہ میں ہیں- نگاہ ہی میں نہیں دل و ضمیر کے گوشوں میں بھی پھیلے ہوئے ہیں- ہمارے حاکموں نے ان سانحات سے سبق نہ سیکھا- غلطیوں کو بار بار دہرایا کہ ان کا احساسِ زیاں جاتا رہا ہے لیکن امجد سانحات کے دہرانے جانے والے عمل کو روکنا ضروری سمجھتے ہیں- اس لیے وہ کہتے ہیں-
آخری مرتبہ اے متاعِ نظر
آج اپنے گناہوں پہ روئیں گے ہم
تیری آنکھوں میں اب اے نگار وطن
شرمساری کے آنسو نہیں آئیں گے
ہم کو تیری قسم اے بہار وطن
اب اندھیرے سفر کو نہ دہرائیں گے
گر کسی نے ترے ساتھ دھوکہ کیا تو وہ کوئی بھی ہو
اس کے رستے میں دیوار بن جائیں گے
جان دے کر ترا نام کر جائیںگے
(برزخ)
وطن امجد اسلام امجد کی شاعری میں اسی طرح کا ایک توانا حوالہ ہے جس طرح فیض کی شاعری میں نگارِ وطن کی محبت میں سرشار امجد کبھی کبھی اظہار میں وہی سپاٹ پن پیدا کر دیتا ہے جو خود فیض کی بعض نظموں میں پیدا ہو جاتا ہے- اوپر والے حوالے میں یہ انداز موجود ہے- کبھی کبھی امجد اسی طرح کا انقلابی بھی نظر آنے لگتا ہے جس طرح فیض ہیں- ایسی نظمیں اور حوالے انہیں انقلابی اور مزاحمتی شاعروں کی صف میں شامل کر دیتے ہیں-

شفیع ضامن
امجد کی شاعری روایت و جدت کا ایک دلکش امتزاج ہے- اس کے اشعار میں ایسی نئی تراکیب‘ نئی تمثالیں اور نئی علامتیں بکثرت پائی جاتی ہیں جو اگر ایک طرف ہماری شاعری کے عصری مزاج کی آئینہ دار ہیں تو دوسری طرف ان کا رشتہ ہماری کلاسیکی شاعری سے بھی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے- ٹی ایس ایلیٹ نے کہا ہے .... ”کوئی شاعر‘ کوئی فنکار خواہ وہ کسی بھی فن سے تعلق رکھتا ہے تن تنہا اپنی کوئی مکمل حیثیت نہیں رکھتا- اس کی اہمیت اور اس کی بڑائی اس میں مضمر ہے کہ پچھلے شعرا کے ساتھ اس کا کیا رشتہ ہے“ .... میرے خیال میں امجد‘ ایلیٹ کے اس معیار پر بڑی حد تک پورا اترتا ہے- اس کی شاعری غالب‘ اقبال‘ فیض‘ ندیم اور راشدکی شعری روایت کی ایک ایسی توسیع ہے جس پر امجد کی اپنی سوچ‘ اپنے لہجے اور اپنے جذبات کی چھاپ بڑی گہری اور نمایاں نظر تی ہے اور اگر گذشتہ چند سالوں میں حاصل ہونے والی شہرت اور مقبولیت نے اسے کاہل اور تن آسان نہ بنا دیا تو وہ غالب‘ اقبال‘ فیض اور ندیم کے مینرازم سے مکمل طور پرآزاد ہو کر اپنا ایک منفرد شعری اسلوب تشکیل دینے میں زیادہ دیر نہیں لگائے گا-

 

divider
divider
copyright©AmjadIslamAmjad.net2008
design_sig