


امجد اسلام امجد سے ایک تصوراتی مکالمہ
عرفان مرتضیٰ.......... لاس اینجلس
خیر! ان صاحب کا گھر مل ہی گیا- ہم نے آگے بڑھ کر دروازہ کھٹکھٹایا تو وہ صاحب باہر
نکلے- امجد اسلام امجد کو دیکھ کر فوراً ان سے بغل گیر ہوگئے- پھر کہا ”معاف کیجئے
گا کہ اتنی رات گئے آپ کو گھر ڈھونڈنے میں تکلیف ہوئی ہوگی“- امجد صاحب نے کہا :۔
منزل بہت ہی دور تھی‘ رستے تھے اجنبی
تاروں کے ساتھ ساتھ نکلنا پڑا ہمیں
ہم ان کے ساتھ اندر جا کر بیٹھے تو وہ صاحب بولے‘ ”آپ لوگ دو منٹ بیٹھئے‘ میں چائے
بنا کر لاتا ہوں- امجد صاحب نے کہا کہ ”جناب ؟آپ بیٹھیے‘ وہ دو منٹ جو آپ چائے
بنانے میں لگائیں گے‘ ان دو منٹوں میں ہم باتیں ہی کر لیں گے- چائے کے لئے آپ بھابی
کو تکلیف دے دیں“- افسردہ لہجہ میں وہ صاحب بولے‘ ”امجد بھائی! آپ کی بھابی تو
ناراض ہو کر اپنی ماں کے گھر چلی گئی ہیں‘ ذرا سی غلط فہمی سے بات کہاں سے کہاں
پہنچ گئی تھی“- امجد صاحب نے ان سے دلاسہ دینے کے انداز میں کہا :۔
ساری بات تعلق والی جذبوں کی سچائی تک ہے
مَیل دلوں میں آ جائے تو گھر ویرانے ہو جاتے ہیں
وہ صاحب بولے ”صحیح کہا امجد بھائی آپ نے‘ اکیلے تو سارا گھر کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے-
اب کل دوبارہ ان کو فون کرکے بات کروں گا‘ ہوسکتا ہے کہ واپس آ جائیں“- ہم نے ان
صاحب سے کہا ”جناب! آپ سے ہماری اتنی بے تکلفی تو نہیں کہ ہم پوچھ سکیں‘ لیکن غلط
فہمی سے آپ کی کیا مراد“؟ بولے ”بس ایسے ہی تذکرہ نکل آیا تھا کہ اگر زندگی کے کسی
دور میں واپسی ممکن ہو تو کون سے دور میں واپس جانا پسند کریں گے- آپ کی بھابی نے
کہا کہ وہ تین چار برس کی عمر کے دور میں جانا چاہیں گی‘ کیونکہ اس دور میں نہ تو
زندگی کے کسی جھمیلے کی فکر تھی اور نہ ہی کوئی پریشانی- میں نے کہا ”میں تو شادی
سے پہلے کے دور میں جانا چاہوں گا کیونکہ میری خواہش ہے کہ....“ امجد صاحب ان کی
بات کاٹ کر بولے :۔
یہ جو خواہشوں کا پرند ہے‘ اسے موسموں سے غرض نہیں
یہ اڑے گا اپنی ہی موج میں‘ اسے آب دے کہ سراب دے
انہی باتوں کے درمیان امجد صاحب کے دوست نے امجد صاحب سے کہا کہ ”بھائی! اگر آپ برا
نہ مانیں تو ہمارے پڑوس میں جو محترمہ رہتی ہیں وہ آپ کی بڑی مداح ہیں‘ اور آپ سے
ملنا چاہ رہی تھیں“- امجد صاحب مسکرانے لگے‘ کہنے لگے‘ ”ملنے کی بھی خوب کہی آپ نے‘
کیونکہ :۔
سینکڑوں بار مل چکے ہوتے
آپ ملتے اگر دعا سے ہی!
پھر بولے! ”ضرور بلائیں ان محترمہ کو بھی لیکن ذرا جلدی کیونکہ ہم لوگوں کو واپس
بھی جانا ہے“- تھوڑی ہی دیر میں وہ محترمہ امجد صاحب سے ملنے آگئیں- بات تو عجیب
تھی‘ لیکن یک دم ان محترمہ نے آگے بڑھ کر امجد صاحب سے ہاتھ ملایا اور ہاتھ ملانے
کے بعد فوراً اپنا ہاتھ کھینچ کر دوسرے ہاتھ میں تھام لیا- یہ دیکھ کر امجد اسلام
امجد خاموش نہ رہ سکے- فوراً بولے :۔
اس کے تو انگ انگ میں جلنے لگے دیے
جادو ہے میرے ہاتھ میں‘ مجھ کو پتا نہ تھا
پھر ان محترمہ سے بولے :۔
تجھے چھو لیا تو بھڑک اٹھے مرے جسم و جاں میں چراغ سے
اسی آگ میں مجھے راکھ کر‘ اسی شعلگی کو شباب دے
ابھی انہوں نے اتنا ہی کہا تھا کہ ایک صاحب بھی کمرے میں داخل ہوئے- ان محترمہ نے ان صاحب کا تعارف اپنے شوہر کی حیثیت سے کروایا تو ایک دم ہماری ہنسی چھوٹ گئی- امجد اسلام امجد نے ہماری جانب پہلے تو غصے بھری نظر سے دیکھا پھر خود بھی ہنس دیئے- رات کافی ہوچکی تھی- تھوڑی گفتگو کے بعد ہم نے ان محترمہ سے اور اپنے میزبان سے اجازت چاہی اور امجد صاحب نے ان محترمہ کے شوہر سے اور واپس اپنے گھر کی جانب روانہ ہوگئے-

