


امجد اسلام امجد
گلزار
محبت ایسا دریا ہے
کہ بارش رُوٹھ بھی جائے
تو پانی کم نہیں ہوتا
برسوں ہو گئے امجد صاحب سے ملاقات ہوئے لیکن وہ جو ملے تھے اس ملاقات کی تپش ابھی
تک کم نہیں ہوئی- سات سال بیت گئے- کبھی کبھی فون پر ضرور بات ہو جاتی ہے کبھی
لاہور سے اور کبھی امریکہ سے- اچھی بات ہے کہ وہ یاد رکھتے ہیں اور میں بھولتا نہیں-
4 اگست کو تو ضرور ہی فون کرتا ہوں- امجد بھائی جتنے کام کرتے ہیں اور جس قدر مصروف
رہتے ہیں ‘ اس میں تو اپنے آپ کو بھی یاد رکھنا بہت بڑا کام ہے-
ایک بڑے آنگن کی سی ایمبریس ہے ان کی- صبح کی دھوپ چمکی کہ کوئی کمرے سے نکل آیا‘
کوئی باہر سے آگیا‘ کوئی چھت سے اتر رہا ہے اور دن بھر کے سارے کاموں سے آنگن بھر
جاتا ہے- شعر و ادب کی بات کیجئے‘ یا ڈرامہ اور سیرئیل کی- زبان و نطق کی بات ہو یا
تبصرہ و تنقید کی‘ امجد بھائی نے کیا کیا جوہر نہیں دکھائے‘ اور اللہ ہی جانتا ہے
وہ اتنا وقت کیسے نکال لیتے ہیں- تخلیق ان کے ہاں امڈی پڑتی ہے- میں اپنے تجربے سے
کہہ سکتا ہوں کہ سیرئیل نگاری‘ ناول نگاری سے کہیں زیادہ مشکل کام ہے- امجد کے تمام
سکرین پلے تکنیکی طور پر ایک سند ہیں اور مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے نوجوان
قلمکاروں اور نوجوان سیرئیل بنانے والوں کے لیے ایک سبق ثابت ہوں گے- سکرین پلے
مستقبل کی ایک فورم ہے جو لٹریچر کا حصہ ہو گی- ”رات“- ”دن“- ”وارث“ اور کچھ اور اس
وقت یاد نہیں‘ ان کے اہم سکرین پلے ہیں- کچھ میں نے پڑھے ہیں- کچھ دیکھے ہیں-
سکرین پلے کے علاوہ سفر نامے امجد بھائی کے!..... پڑھکے لوگوں کو محسوس ہوتا ہو گا
کہ وہ بھی سیر کر آئے- مجھے ہر بار یہ محسوس ہوتا ہے کہ میں کیوں نہ گیا اور پھر
ایسی خوبصورت ‘ ہنس مکھ‘ بشاش شخصیت کے ساتھ جس کا نام امجد اسلام امجد ہے-
بمبئی جب آئے تھے تو کچھ دوستوں کے ساتھ ایک اچھی خوشگوار شام گذاری تھی- اب تک
امجد کا نام آجائے تو ان سب کے چہروں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے-
سفر ناموں میں خصوصاً چین کا سفر بہت الگ ہے- شاید اس لیے بھی کہ وہاں کے کلچر سے
لوگ ذرا کم واقف ہیں- امجد کے اس سفر سے نہ صرف سوشل رویے کی تصویر ملتی ہے
بلکہ کھانے‘ پینے اور پوشاک کے علاوہ وہاں کے دن اور شام کی خوشبوبھی پتہ چلتی ہے....
ان کے سفر ناموں میں ایک اور خوبی ہے- چاہے کتنی دور نکل جاﺅ‘ کتنے ہی دن لگ
جائیں‘
آپ ہوم سک کبھی محسوس نہیں کرتے- اس لیے کہ اول تو وہ پورا لاہور ساتھ
لے کر چلتے ہیں اور اکثر غالب و میر کو بھی ساتھ لے لیتے ہیں- ہر ایک کیفیت کی
وضاحت کرتے ہوئے چلتے ہیں- ایک زندہ پکنک رہتی ہے- اتنے حسین اور دلچسپ سفرنامے میں
نے کبھی نہیں پڑھے...... حکمرانوں کی تواریخیں تو بہت لکھی گئی ہیں- امجد اسلام
امجد کے سفر نامے عوام کی تواریخیں ہیں- اور ایک نہایت سلجھے ہوئے ادیب کے نقطئہ
نظرسے!....یہ سفرنامے بیک وقت جغرافیہ بھی ہیںاور تواریخ بھی ہیں- امجد کی سینس آف
ہیومر‘ افشاں کی طرح صفحوں پر چمکتی نظر آتی ہے- اس سینس آف ہیومر سے لبریز‘ ان کے
وہ مضامین بھی ہیں‘ جو وقتاً فوقتاً پاکستان کے اخباروں میں شائع ہوتے رہے- ” طنز و
مزاح“ کا وہ مجموعہ بھی شائع ہو چکا ہے- اور ان سب کاموں کے علاوہ امجد بھائی کی
شاعری! ماشاللہ......!
شاعری کی تقریباً ہر صنف میں لکھا ہے- غزل بھی‘ گیت بھی‘نظم بھی‘ نعت بھی- مجھے وہ
ہمیشہ نظم کے بڑے شاعر لگے اور بڑی نظم کے شاعر بھی- نظم ان کا خاص انداز بیان ہے-
میں نہیں جانتا کہ وہ مجھ سے اتفاق رکھتے ہیں یا نہیں لیکن نظم میں وہ ا س طرح
سنائی دیتے ہیں جیسے بات کر رہے ہوں- کسی طرح کا کوئی اٹکاﺅ ان کے انداز بیان میں
نظر نہیں آتا-
سب کچھ ایسے ہی ہو جائے‘ جب ہے نا
چاند مری کھڑکی میں آئے‘ تب ہے نا
”تب ہے نا‘ ‘ پڑھتے ہوئے میں ان کی ہلتی ہوئی گردن دیکھ سکتا ہوں- روانی یوں ہے کہ
بغیر لَے کے پڑھ جائیے تو ”نثر“ کی طرح بہتی ہے- ”بحر“ میں پڑھئے تو ترنم سنائی
دیتا ہے-
اگر کبھی میری یاد آئے
تو چاند راتوںکی نرم دل گیر روشنی میں
کسی ستارے کو دیکھ لینا
اُن کی نظم بڑے ہلکے ہلکے پیروں سے چلتی ہے- کہیں کوئی دباﺅ نظر نہیں آتا-
کیسے اتروں پار
بادل بادل تیری آنکھیں
دریا دریا خواب
کیسے اتروں پار
اور کیا خوبصورت مصرع ہے......
چاروں جانب پھیل رہی ہے کاجل کی آواز
اتنے ہلکے ہلکے پیروں سے چلتی نظموں کا یہ شاعر اپنے پیچھے ایک بہت بڑا سماجی شعور
بھی رکھتا ہے- وہ اپنے وقت کی آواز سے بے بہر ہ نہیں- وہ ہر آہٹ پر کان لگائے بیٹھا
ہے اور جانتا ہے کہ وقت صحراﺅں کی طرح کروٹ لیتا ہے- رات کی رات کون سا ٹبہّ‘ کون
سا ٹیلہ اپنی جگہ بدلے‘ کوئی نہیں جانتا-
کیا عجیب قصہ ہے
زیر دست قوموں کی..... سرحدیں بدل جائیں
اٹلسوں کے صفحوں سے...... ایک دم نکل جائیں
وہ چلا کر‘ عوام کے کان نہیں کھاتا- بڑی نرمی سے بات کرتا ہے- سوال کرتا ہے اور جان
نکال لیتا ہے-
میرے شہروں کو کس کی نظر لگ گئی
ہم تو نکلے تھے ہاتھوں میں سورج لیے
رات کیوں ہو گئی؟
میں کہاں تک حوالے دیتا رہوں- امجد اسلام امجد کی شاعری کے‘ دیوان کے دیوان دو بارہ
نوٹ کرنے پڑیں گے-

