


دِل اور دُنیا سے باتیں: امجد اسلام امجد
پروفیسر فتح محمد ملک
۔2۔
جذبہء محبت اور عشق کے چلن کی معنویت کو عقلی استدلال کی مدد سے سمجھنے میں ناکامی
انہیں اپنے تجربات سے پھوٹنے والی آگہی کی روشنی میں لا بٹھاتی ہے- چنانچہ وہ روح و
بدن کے اسرار پر اپنے محبوب کے ساتھ مل کر غور و فکر کرنے لگتے ہیں- اس موضوع پر
کہی گئی متعدد خوبصورت نظموں میں سے ایک کا عنوان ہے: ”کیا کبھی تم نے سوچا
ہے؟“جسمانیت کے روحانی ابعاد کا احساس طبیعیات کو مابعد الطبیعیات کا ابتدائیہ بنا
کر رکھ دیتا ہے اور وہ اپنے رفیق کو اپنی باہمی جسمانی وابستگی اور پیوستگی کی
روحانی معنویت بتانے لگتے ہیں:
جانِ جاں.... میں نے سوچا بہت ہے!
تمہاری قسم‘
میں نے ان سارے لمحوں کو‘ ژولیدہ لمحوں کے بکھرے ہوئے
موتیوں کو
شب و روز کے بے ٹھکانہ تسلسل کی تسبیح میں
دانا دانا پرویا بہت ہے
(خود کو کھویا بہت ہے)
مگر جب بھی میں اس نشاطِ الم آفریں سے گزرتا ....
گزرنے کی کوشش یا تدبیر کرتا ہوں تو
ایک دیکھا ہوا بے تعارف سا لمحہ
کوئی اجنبی سا خیال آ کے دامن پکڑتا ہے
میں یاد کرتا ہوں
میں یاد کرنے کی بھرپور کوشش میں
ٹوٹے ہوئے‘ ریزہ ریزہ بدن آئنے کی طرح
سارے عکسوں کو ترتیب دیتا ہوں پر
شکل بنتی نہیں
شکل بنتی نہیں اور ژولیدہ لمحوں کے آشوب میں یاد آتا نہیں
مجھ کو کچھ ٹھیک سے یاد آتا نہیں
وہ تعلق مری روح کا عطر تھا
یا فقط جسم کی
بے ٹھکانہ صدا تھی!
تمہاری قسم‘ اس سمے کی قسم
مجھ کو کچھ ٹھیک سے یاد آتا نہیں!!
بظاہر زمیں پیوستہ مجازی محبت جسم کی ”بے ٹھکانہ صدا“ ہے یا روح کا عطر؟ یہی سوال
نظم ”کیا کبھی تم نے سوچا ہے“؟ کے اختتامی بند میں یوں نمودار ہوا ہے:
دن بہت جا چکے ہیں اور اب جانِ جاں
تم بھی میری طرح
زندگی کے سب اُس نوع کے تجربوں سے یقینا گزر آئی ہو
جنہیں لوگ
گم گشتہ جنت میں گیہوں کے دانے سے نکلی ہوئی
داستان کے حوالے سے تفسیر کرتے ہیں!
تمہیں بھی....
(اور اس ”تم“ سے میں خود کو منفی نہیں کر رہا )
ان حقائق پہ اور اُن کی تفسیر پر پختہ ایمان ہو گا!
مگر جانِ جاں
کیا کبھی تُم نے سوچا ہے
وہ لمس کیا تھا!

