logo
سرِ ورق
اگلا صفحہ
پچھلا صفحہ
فہرست
divider
divider

شاعر ڈرامے باز
اعجاز رضوی

امجد اسلام امجد بنیادی طور پر شاعری کے آدمی  ہیں ا ور آپ کے کلام کے کئی مجموعے چھپ بھی چکے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ ڈرامے بھی لکھتے ہیں اور بعد میں ان کو چھاپا بھی جاتا ہے‘ اس لئے آپ کو ڈرامہ باز شاعر کہا جاسکتا ہے-
قدرت نے آپ کو تقریباً سب ہی چیزیں عطا کی ہیں- اچھا بڑا قد‘ بھرا ہوا بدن‘ کچھ بڑا ہوا پیٹ‘ چمک دار آنکھیں اور ان پر بھاری شیشوں کی درمیانے درجے کی ایک عدد عینک‘ پھر اس کے علاوہ میلوں میں پھیلی ہوئی چوڑی پیشانی اور تقریباً 1-½ حصوں میں تقسیم کرتی ہوئی دعاؤں کے زور سے جڑی ہوئی چند اتحادی بالوں کی ایک لٹ آپ کی انتخابی نشانی ہے-
جس طرح عرب کے چٹیل میدانوں کے نیچے تیل کی صورت میں سونا موجزن ہے اسی طرح امجد کی چٹیل پیشانی کے نیچے بھی لفظوں کا سونا ٹھاٹھیں مار رہا ہے اور آپ اس سونے کو جب جی چاہے اور جتنی مقدار میں چاہے رقم میں ڈھال لیتے ہیں- اس لئے آپ کو اس دور کا ادبی سنار بھی کہا جاسکتا ہے-
آپ کا چہرہ ذرا لمبائی میں گول ہے لیکن اوپر کی طرح بے برگ و بار اور اسی قدر صاف اور چمکدار ہے کہ لگتا ہے جیسے آپ گھر سے رندہ مار کر چلے ہوں-
آپ کا رنگ دلدار پرویز بھٹی سے ذرا اجلا اور عارف عبدالمتین کی نسبت ذرا کالا ہے- باطنی رنگ و روپ کے بارے میں کوئی تو کیا خود آپ بھی اچھی رائے نہیں رکھتے-
امجد اسلام امجد کے پاس ایک عدد پرانے ماڈل کا سکوٹر ہے جو چلتے ہوئے اور چلنے سے پہلے بھی آپ کی طرح قہقہے لگاتا ہے- آپ اسی سکوٹر پر شہر بھر میں گشت کرتے ہیں اور کالج بھی اسی سکوٹر پر بیٹھ کر آتے ہیں- سکوٹر سے آپ کی محبت کا یہ عالم ہے کہ اس کو بالکل اپنے کمرے کے ساتھ لگا کر کھڑا کرتے ہیں کیونکہ درمیان میں دیوار آ جاتی ہے- ویسے اگر یہ دیوار نہ ہوتی تو سکوٹر آپ کی ساتھ والی کرسی پر ہی بیٹھا ہوا نظر آتا- امجد عام طور پر ماﺅ کیپ پہنتے ہیں‘ وہ سکوٹر چلاتے ہوئے بھی اس کا استعمال کرتے ہیں لیکن جب ٹریفک پولیس ہیلمٹ پہننے پر زیادہ اصرار کرتی ہے تو آپ یہ کیپ بھی اتار دیتے ہیں-
آپ جس قدر خوش باش اور لطیفہ باز مشہور ہیں اسی قدر رنجیدہ بھی ہیں- آپ کسی کی طرف سے زبانی یا تحریری ہوٹنگ کا جواب دینے میں دیر نہیں کرتے- کچھ لوگ آپ کو پاکستان کا نمبر ون لطیفہ باز کہتے ہیں لیکن امجد نمبر ون نہیں‘ کیونکہ نمبر ون تو وہ ہوتا ہے جس کے بعد نمبر ٹو اور نمبر تھری بھی ہوں جب کہ آپ اس سلطنت کے اکیلے ہی بادشاہ ہیں اور اس کا ثبوت وہ قہقہے ہیں جو آپ کی موجودگی میں کسی بھی جگہ سے آ رہے ہوتے ہیں اگرچہ ان قہقہوں کے پیچھے عطاءالحق قاسمی کی صورت میں فارن ایڈ کا بھی کافی عمل دخل ہوتا ہے-
امجد اسلام امجد کے ڈراموں اور دیگر ”ڈرامہ بازیوں“ کو بھول کر اگر کوئی شخص آپ کے مجموعہ کلام ”برزخ“ اور ”ساتواں در“ کی شاعری کا جائزہ لے تو وہ یہ ہی سمجھے گا کہ امجد اسلام امجد کوئی بہت ہی بھاری بھرکم‘ خاموش طبع اور عمر رسیدہ بزرگ ہیں حالانکہ وہ صرف بھاری بھرکم ہیں باقی تمام معاملات میں اس کے برعکس ہیں-
آپ گورنمنٹ ایم- اے- او کالج لاہور میں لڑکوں کو پڑھاتے ہیں لیکن کلاس میں ذرا کم ہی جاتے ہیں اور اگر جائیں بھی تو کرسی کا استعمال ذرا کم ہی کرتے ہیں ا ور اپنا لیکچر کھڑے کھڑے ہی مکا دیتے ہیں- آپ کی اتنی محنت پر بھی لڑکے اردو میں فیل ہو جائیں تو اس میں آپ کا کیا قصور؟ امجد اسلام امجد کی کلاس میں پڑھائی ہو یا نہ ہولیکن حاضری ہمیشہ پوری سے بھی زیادہ ہوتی ہے اور ہر لڑکا فل ٹائم ایکشن میں رہتا ہے وہ بھی اس لئے کہ امجد کو ایکشن سے بھرپور شاہکار بہت پسند ہیں- امجد طبعاً شریف اور شادی شدہ ہیں اس لئے نامحرم کی طرف نظر کم ہی اٹھاتے ہیں شاید اسی لئے آپ کو آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ کلاس کے اصلی لڑکے کتنے ہیں اور باہر سے کتنے آتے ہیں!
آپ کالج میں بالکل چوہدری حشمت کی فوٹو کاپی بنے رہتے ہیں- ہمہ وقت آپ کی گردن سیدھی‘ نظر اونچی‘ کان اور زبان بند‘ دماغ ٹی- وی اور دل گھر پر ہوتا ہے مگر جوں جوں شعبہ اردو نزدیک آتا ہے اسی ترتیب سے پہلے آپ کی زبان کھلتی ہے اور پھر کان‘ لیکن نظر اس وقت تک اوپر ہی رہتی ہے جب تک عطاءالحق قاسمی سامنے نہ آجائیں- آپ کے بولنے کا انداز ذرا جلدی جلدی والا ہے لیکن اس پر بھی بات چاہے نظم میں ہو یا نثر میں یا کسی ڈرامے کے مکالمے کی صورت میں‘ لوگ آپ کی بات ضرور سمجھ لیتے ہیں-
امجد کے بارے میں بہت کچھ کہا جاسکتا ہے یعنی بندہ سرخاہے‘ بندہ بشر میں سبزہ ہی سبزہ ہے یا پھر سراسر پیلا ہے لیکن نہیں‘ امجد چاہے کسی بھی رنگ میں رنگ جائیں ا ور چاہے کتنے بھی آگے چلے جائیں اسلام آپ کے آگے ضرور رہے گا‘ یوں یہ کمال بھی آپ کاذاتی پیدا کردہ ہے‘ والدین نے تو آپ کے آگے اسلام کو رکھا تھا مگر یہاں بھی ڈرامہ کر گئے اور اسلام کو آگے پیچھے کرکے ایسی پوزیشن میں لے آئے کہ جہاں اسلام کو کوئی خطرہ نہیں رہا‘ مگر اسلام کو تو کسی بھی دور میں کوئی خطرہ نہیں رہا پر امجد نجانے کیوں اس کو دفاعی پوزیشن میں لا کر بہت خوش ہیں-
آپ فلیمنگ روڈ پر رہتے ہیں اس لئے ہر لمحہ سرالیگزینڈر فلیمنگ کی طرح کچھ نہ کچھ ایجاد کرنے کے چکر میں رہتے ہیں‘ جس طرح سر الیگزینڈڑ فلیمنگ نے محض اتفاق کی بنا پر قدرتی جراثیم کش مادہ دریافت کیا اسی طرح امجد نے بھی محض اتفاقی طور پر ”وارث“ لکھا اور معاشرتی جراثیم کی نسل کشی کرنے کی کوشش کی لیکن الیگزینڈر کی خوش قسمتی کہ پنسلین کی کوئی اور نقل نہیں ہوئی جب کہ وارث کی مسلسل نقل ہوئی اور ہو رہی ہے-
اوروں سے زیادہ خود آپ بھی اپنے ڈرامے ”وارث“ سے بہت متاثر ہوئے-ہم سب لوگ امجد کے ادبی کارہائے نمایاں پر آپ کو سر کا خطاب دے سکتے ہیں لیکن کیا کریں کہ آپ تو پہلے ہی اس سر کے لفظ سے چڑتے ہیں خطاب تو خطاب جب کوئی لڑکا کالج میں آپ کو ”سر“ کہتا ہے تو آپ کا ہاتھ بے اختیار ”سر“ پر چلا جاتا ہے اور پھر اس لڑکے کے ”سر“ کہنے کے جواب میں آپ ”یس“ یا ”جی“ نہیں کہتے بلکہ سر پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں آسمان کی طرف اٹھا کر بہت آہستہ سے کہتے ہیں ”سر! کون سا سر؟“
لڑکا بھی آہستہ سے کہہ دیتا ہے ”بات سمجھ میں آگئی نا‘ تو بس ٹھیک ہے-“
اب امجد چونکتے ہیں اور ایک ہاﺅس فل قہقہہ لگاتے ہوئے آہستہ سے کہتے ہیں ”خیر ہو آپ کی“
شاید یہی آپ کی اصلی آواز ہے


 

divider
divider
copyright©AmjadIslamAmjad.net2008
design_sig