logo
سرِ ورق
اگلا صفحہ
پچھلا صفحہ
فہرست
divider
divider

کچھ اپنے بارے میں

ان ڈراموں یا مضامین کامعاوضہ تو نہیں ملتا تھا البتہ پرچہ ضرور ملا کرتا تھا- اس زمانے میں یہی بہت بڑی بات ہوتی تھی- مجھے یاد ہے میرے پاس سائیکل ہوا کرتی تھی اور وہ رسالہ کئی کئی ہفتے میرے کیرئر پر ہی رہا کرتا تھا تاکہ کوئی پوچھے یہ کیا ہے؟ تو چھپائے نہ بنے- یعنی اس زمانے میں یہ شوق ہوتا تھا کہ لوگوں کو پتہ چلے اس کی کوئی چیز چھپی ہوئی ہے- اب میں اس سوچ پر خود بڑاانجوائے کرتا ہوں کیونکہ یہ بڑی فطری سی خواہش ہے کہ اگر اس میں کوئی خوبی ہے تو اسے تسلیم کیا جائے اگرچہ میں طالب علمی کے زمانے میں تھوڑا سا مشہور بھی ہوگیا تھا بین الکلیاتی مشاعروں میں انعام وغیرہ بھی لے لیا کرتا تھا لیکن میں اس معاملے میں کبھی زیادہ سنجیدہ نہیں ہوا- پھر جب میں بی اے میں اسلامیہ کالج سول لائنز میں گیا تو وہاں ”شمع تاثیر“ کے نام سے ایک مشاعرہ ہوا کرتا تھا- وہاں مجھے ”بزم فروغ اردو“ کا سیکرٹری بنا دیا گیا- اس کے ساتھ ساتھ میںنے گھروں میں منعقد ہونے والے محلہ ٹائپ مشاعروں میں بھی جانا شروع کر دیا وہاں اگرچہ بڑے بڑے شعراءجاتے تھے مگر اپرنٹس کے طور پر ہم بھی چلے جایا کرتے تھے- اس موقع پر میری کسی نظم یا غزل پر بڑے شعراءمیں سے اگر کوئی تعریف کر دیتا تھا تو اس سے بڑی حوصلہ افزائی ہوتی تھی- مثلاً اساتذہ میں شہرت بخاری تھے جو ہمارے کالج میں پڑھایا کرتے تھے- معراج الدین احمد تھے اگرچہ وہ خود تو شاعر نہیں تھے مگر میری شاعری کو بہت پسند کرتے تھے‘ لیکن اصل آدمی جو مجھے سٹوڈنٹ شپ کے دوران ملے وہ محمد عاشق غوری تھے جو ہمارے اردو کے استاد تھے اور اپنی پیروڈی کی وجہ سے مشہور تھے- وہ ہماری بزم اردو کے نگران تھے- انہوں نے میری خاصی حوصلہ افزائی کی- اسی زمانے میں کھیلوں کے حوالے سے مجھے کچھ جذباتی دھچکے بھی لگے- وہ بھی ایک الگ وجہ ہے تاہم ۴۶۹۱ءمیں اسلامیہ کالج کی طرف سے مجھے سکالر شپ ملا کیونکہ ہم بارہ سال بعد گورنمنٹ کالج سے فائنل جیتے تھے لیکن جیساکہ آپ جانتے ہیں سیاست تو ہر زمانے میں ہوتی ہے مثلاً جب یونیورسٹی کی ٹیم بننے لگی تو مجھے انہوں نے ٹیم میں کھلانے کی بجائے ریزرو میں رکھ لیا وہ میرے لئے ایک ایسا جذباتی دھچکا تھا جس سے میں ذرا بدگمان ہوگیا- اس بدگمانی کی وجہ سے میں ادب کی طرف زیادہ توجہ دینے لگا- یہاں مجھے بہت زیادہ پذ یرائی ملی
میں نے اس زمانے میں نیا نیا حلقہ ارباب ذوق میں جانا شروع کیا تھا- اس کے لئے بھی کوئی نظم وغیرہ لکھ لیتا تھا- اگر کبھی وحشی مارہروی کا کوئی خط ملتا تو مضمون بھی لکھ دیا- وہ ساری ایک طرح سے خود رو چیزیں تھیں مگر اس میں ابھی کوئی قابل ذکرکام نہیں ہوا تھا- میری باقاعدہ مصروفیات تو بی اے کے آخری سال میں شروع ہوئی تھیں-
دیکھئے جس دور کا میں ذکر کر رہا ہوں اس وقت میری عمر سترہ اٹھارہ برس تھی- اب اس عمر کے لڑکے کو تو ادیب لوگ پاس بھی نہیں بیٹھنے دیتے مگر مجھے ابتدائی طور پر ہی پذیرائی ملی- اس زمانے میں بھی میرے ساتھ بڑی عجیب و غریب صورت ہوئی یعنی بچپن میں ہی میرے گھر والے کہتے تھے کہ یہ بڑا ہو کر وکیل بنے گا کیونکہ بولنے کا مجھے بچپن میں ہی بہت زیادہ شوق تھا- بحث وغیرہ کر لیا کرتا تھا- اس وقت میرا بھی ارادہ تھا کہ میں بڑا ہو کر وکیل ہی بنوں گا مگر اتفاق سے جب میرا بی اے کا نتیجہ نکلا تو اردو میں میری یونیورسٹی میں ایک پوزیشن آگئی-
بی اے میں اردو میرا مضمون تھا‘ اس میں میری پوزیشن آگئی اور مجھے اسکالر شپ مل گئی- مجھے یاد ہے کہ پنجاب یونی ورسٹی میں اس دور میں ہماری فیس بارہ روپے ہوتی تھی‘ اور اسکالر شپ پچاس روپے مہینہ- مجھے کچھ دوستوں نے سمجھایا کہ یار یہ مفت میں مل رہے ہیں‘ تو اس طرح میں ایم اے اردو میں چلا گیا‘ وہاں میں نے فرسٹ ایئر میں بھی پوزیشن لی اور سیکنڈ ایئر میں بھی- پانچویں سال مجھے لٹریری سوسائٹی پنجاب یونی ورسٹی کا چیئرمین بنا دیا گیا‘ چھٹے سال یونی ورسٹی کے میگزین ”محور“ کا چیف ایڈیٹر بن گیا- یوں سمجھ لیں کہ ہمارا دور طالب علمی اسپورٹس اور ادب‘ گویا دو پٹڑیوں کے درمیان چلتا رہا- ایم اے کرنے کے بعد کچھ واقعات ایسے ہوئے کہ میں کرکٹ میں آگے نہ جاسکا اور پھر میری پوری توجہ ادب کی طرف ہوگئی-

میری نظمیں بی اے میںہی مقبول ہونا شرع ہوگئی تھیں جو سٹوڈنٹس کے مشاعروں میں بہت پسند کی جاتی تھیں- مجھے یاد ہے کہ ۴۶۹۱ءمیں لاءکالج کے مشاعرے میں ایک نظم میں نے پڑھی تھی مگر آج سے چار پانچ سال پہلے کوئی صاحب مجھے دوبئی میں ملے ان کو وہ آدھی نظم یاد تھی حالانکہ مجھے خود وہ نظم بھول چکی تھی- ظاہر ہے عمر کا وہ ایک ایسا حصہ تھا جہاں وہ نظم اس کے دماغ میں فکس ہوگئی مگر جب میں یونیورسٹی میں آیا تب میں سنجیدگی سے سوچنے لگا کہ شاید شاعری ہی میرے لئے اظہار کا بہترین ذریعہ ہے- میں آزاد نظمیں لکھا کرتا تھا- اس زمانے یعنی۰۶۹۱ءکے وسط تک آزاد نظم مشاعرے کی سطح پرمقبول  نہیں تھی- مگر میں نے تھوڑی سی خود اعتمادی اور شاید کچھ حوصلہ کا مظاہرہ بھی کیا- جن لوگوں نے مجھے ابتدائی زمانے میں تھوڑا سا سنا تھا ان کے سامنے میں غزل پڑھتا ہی نہیں تھا- ہمیشہ نظم ہی پڑھا کرتا تھا- لہٰذا آزاد نظم کی قبولیت  نے مجھے آئندہ کے کیریئر میںبہت مدد دی- مجھے یوں لگا کہ میرے اندر شاعری  کا جو ردھم ہے وہ مجھے مل گیا ہے- اس طرح عوامی سطح پر جب میری پذیرائی ہونے لگی تومیں باقاعدہ شاعری کی طرف آگیا- میری ایک نظم ”ہوائے شہر وفا شعاراں“ جوکہ میں نے ایوب خان کے زمانے میں اس وقت لکھی جب اس کے خلاف تحریک چل رہی تھی اگرچہ میں اس زمانے میں خود طالب علم تھا پھر بھی میری یہ نظم ہزاروں کی تعداد میں طلباءمیں مفت تقسیم کی گئی- حنیف رامے ان دنوں ”نصرت“ نکالا کرتے تھے اس کے ٹائیٹل پر انہوں نے میری وہ نظم شائع کی- وہ ایک جارحانہ قسم کی نظم تھی اور اس سے میرے سیاسی اور قومی معاملات کا شعور میری نظم کے حوالے سے پہلی دفعہ محسوس کیا گیا-
وہ ایک قسم کے سیاسی بہاؤ کا زمانہ تھا ویسے بھی ان دنوں ملک میں طلباءکی اور سیاستدانوں کی زبردست تحریک چل رہی تھی اور ایوب خان بھی جا رہا تھا اس لئے ایسی تحریروں یا نظم کو چیک کرنے والی کوئی طاقت نہ تھی اور یہ طاقت اس وقت ہوتی ہے جب انتظامیہ مضبوط ہو- اس کے بعد جب یحییٰ خان آیا تو اسے کسی چیز سے فرق ہی نہیں پڑتا تھا- یہی وہ زمانہ تھا جب پہلے تو میں حلقہ ارباب ذوق کاجوائنٹ سیکرٹری اور پھر سیکرٹری ہوگیا-

divider
divider
copyright©AmjadIslamAmjad.net2008
design_sig