logo
سرِ ورق
اگلا صفحہ
پچھلا صفحہ
فہرست
divider
divider

امجد اسلام امجد __محبت کا شاعر
پروفیسر عبدالخالق تنویر
۔1۔

کرکٹ امجد کا پہلا عشق ہے- دوسرے عشق کے نتیجے میں شاعری اس پر غالب آئی تو یہ امجد اسلام امجد بن گیا- اب کرکٹ سے اس کا تعلق محض ٹھرک پورا کرنے کی حد تک باقی ہے- اگر کرکٹ سے اس کا بھرپور ناطہ قائم رہتا تو یہ زیادہ سے زیادہ انتخاب عالم بن کر گمنامی کی زندگی بسر کرتا اور شاعری سے اس کا رشتہ عمران خاں کے کسی خوبصورت ایکشن پر برمحل کوئی شعر پڑھ لینے تک محدود ہو کر رہ جاتا- اس طرح ہم اس امجد اسلام امجد سے محروم رہ جاتے جو مختصر سے تخلیقی سفر میں قابل رشک کامرانیاں سمیٹنے کے باوجود مطمئن نہیں بلکہ اس کے اندر کا تخلیق کار آگے ہی آگے بڑھے جانے کے لئے بیتاب ہے- اب کرکٹ سے اس کا تعلق محض اتنا ہے کہ کسی کانٹے دار کرکٹ سیریز یا ورلڈ کپ کے مقابلوں پر ماہرانہ رائے کا اظہار کر لیتا ہے- سنا ہے اب اس نے ان تبصروں سے بھی توبہ کر لی ہے کیونکہ ڈاکٹر اجمل نیازی نے کرکٹ پر تبصراتی مضامین لکھنے شروع کر دیئے ہیں-
امجد اسلام امجد عشق و محبت کا شاعر ہے- نوجوانی کی منہ زور گہری محبت جسے گرین پیشن کہا جاسکتا ہے‘ اس کی خوبصورت اور رنگا رنگ تصویریں تمام جذباتی سچائیوں اور معصومیتوں کے ساتھ اس کی شاعری میں جگہ جگہ بکھری پڑی ہیں- وہ خواب بن کر کسی کی پلکوں کی امان میں رہنا چاہتا ہے- اس کی گلی میں جاتا ہے تو یہ امید رکھتا ہے کہ بالکونی میں چوڑیاں کھنکیں گی اور کوئی حنائی ہاتھ چلمن کو دھیرے سے اٹھائے گا- ان معصوم خواہشوں کے پیچھے ایک دھیمے دھیمے لذت انگیز درد کی سرگوشیاں صاف سنائی دیتی ہے- عمر کے اس حصے میں جہاں مرد اپنی بیوی کے سامنے محبوب کے نام کے ہم قافیہ الفاظ بھی استعمال کرنے سے گریز کرتا ہے‘ امجد بڑے دھڑلے سے اپنے انگ انگ میں بسی محبت کا ذکر تمام صداقتوں کے ساتھ کئے جا رہا ہے-
امجد کے لئے عشق و محبت محض ایک جزو وقتی مشغلہ نہیں بلکہ یہ ایک ایسی اعلیٰ قدر ہے جس کے بطن سے وہ اقدار جنم لیتی ہیں جن سے تھکی ہاری زندگی نمو اور تازگی پاتی ہے- کوئی بھی خیال محض ایک نظریہ کے طور پر اہمیت کا حامل نہیں ہوتا- یہ اس وقت وقیع منصب حاصل کرتا ہے جب اسے فن کے ذریعے زندگی کا لازمہ بنا دیا جائے-ا مجد نے محبت کو ایک مجرد نظریہ کے طور پر قبول نہیں کیا بلکہ اسے جزو حیات سمجھا ہے-
اس قدر قرض ہے محبت کا
سوچتا ہوں تو ہول اٹھتا ہے
عشق کے واجبات کیسے دوں!
تم نے کیا میرے پاس چھوڑا ہے
مقروض انسان کی جو نفسیاتی کیفیت ہوتی ہے اس کے حوالے سے ہی شاعر کے نزدیک اس عمل کی اہمیت کا اندازہ ہوسکتا ہے-عشق کے واجبات کی ادائیگی کے لئے اس کا خوف زدہ ہونا ایک ایسے احساس کو جنم دیتا ہے جو قاری تک منتقل ہو کر اس کی تہذیب کا فریضہ انجام دیتا ہے- چوتھے مصرعے میں شاعر کے لہجے میں جو شکایت کا انداز پیدا ہوا ہے وہ بذات خود کسی وقعت کا حامل نہیں بلکہ اس شکایت کے حوالے سے اہمیت اس بات کی ہے کہ وہ واجبات عشق کے بارگراں سے سبکدوش ہونے کے قابل نہیں رہا-
امجد اسلام امجد ہنسنے اور قہقہے لگانے میں بخیل نہیں- تبسم کی ہلکی ہلکی لہریں اس کے لبوں پر مچلتی رہتی ہیں- تھوڑا سا گدگدانے پر قہقہے ابل پڑتے ہیں- سرسری نگاہ سے دیکھنے والا اندازہ ہی نہیں کرسکتا کہ ان قہقہوں کے پیچھے کیسے کیسے طوفان پوشیدہ ہیں- ہنستے ہنستے ایک لمحے کو اس کے لبوں پر رقص کرتی لہریں تھم جاتی ہیں- اس کے دل سمندر میں طوفان اٹھنے لگتے ہیں- ریزہ ریزہ تبسم درد بن کر اس کے اندر اتر جاتا ہے- خزاں کے آخری دنوں میں راہ گیروں کے پاﺅں سے جب خشک پتے لپٹتے اور الجھتے ہیں تو اس کی آنکھوں کے سامنے ایک تصویر کوند جاتی ہے اور اس طرح خزاں رسیدہ پتے اس کے درد کا استعارہ بن جاتے ہیں- امجد کی محبت کے کئی رنگ ہیں- محبت کبھی اوس کی صورت اختیار کر لیتی ہے تو کبھی فردوس کی صورت- کبھی ابر کی شکل میں دل کی سرزمین کو سیراب کرتی ہے کبھی آگ بن کر سینے میں جلتی ہے تو دل بیدار ہوتا ہے- کبھی خوابوں کی صورت میںمہتاب بن کر آنکھوں میں اتر جاتی ہے اور کبھی یہ محبت درد ہی درد ہوتی ہے- نظم ”محبت“ کا آخری بند ملاحظہ کیجئے-
محبت درد کی صورت
گزشتہ موسموں کا استعارہ بن کے رہتی ہے
شبان ہجر میں‘ روشن ستارہ بن کے رہتی ہے
منڈیروں پر چراغوں کی لویں جب تھرتھراتی ہیں
نگر میں ناامیدی کی ہوائیں سنسناتی ہیں
گلی میں جب کوئی آہٹ‘ کوئی سایہ نہیں رہتا
دکھے دل کے لئے جب کوئی بھی دھوکہ نہیں رہتا
غموں کے بوجھ سے جب ٹوٹنے لگتے ہیں شانے تو
یہ ان ہاتھوں پہ ہاتھ رکھتی ہے
کسی ہمدرد کی صورت!
گزر جاتے ہیں سارے قافلے جب دل کی بستی سے
فضا میں تیرتی ہے دیر تک
یہ گرد کی صورت
محبت‘ درد کی صورت!
 

divider
divider
copyright©AmjadIslamAmjad.net2008
design_sig